احادیثِ مبارکہ

View previous topic View next topic Go down

احادیثِ مبارکہ

Post by Noor'e Sahar on Mon Aug 16, 2010 1:00 am


احادیثِ مبارکہ : aHadith on Ramadan





عن
ابی ھریرة ان النبی قال: مااجتمع قوم فی بیت من بیوت اﷲ یتلون کتاب اﷲ
وبتدارسونہ بینھم الانزلت علیھم السکینة و غشیتھم الرحمة و خفتھم الملائکہ
وذکرھم اﷲ فیمن عندہ۔ رواہ مسلم



ابو
ہریرہؓ سے روایت ہے، نبی ﷺنے فرمایا: جب بھی کچھ لو گ مل کر اللہ کے
گھروں میں سے کسی گھر میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اس کو ایک دوسرے
سے سمجھتے ہیں تب (اللہ کی جانب سے) ان پر سکینت نازل ہونے لگتی ہے اللہ
کی رحمت ان کو گھیر لیتی ہے اور فرشتے ا ن کے گرد اگرد اکٹھے ہونے لگتے
ہیں اوراللہ ان کاذکر اپنے مقرب (فرشتوں) میں کرتا ہے





عن
عبداللہ بن مسعود انہ قال: ان ھذا القرآن مائدة اﷲ فاقبلوا مائدتہ ما
استطعتم ان ھذا القرآن حبل اﷲ المتین والنور المبین والشفاءالنافع ، عصمة
لمن تمسک بہ ، ونجاة لمن اتبعہ ، لا یزیغ فیستعتب ، ولا یعوج فیقوم ، ولا
تنقضی عجائبہ ولا یخلق من کثرة الترداد، اتلوہ فان ﷲ یا جرکم علی تلاوتہ
کل حرف عشر حسنات ، اما انی لا اقول الم حرف و لکن الف حرف ولام حرف ومیم
حرف۔ رواہ الحاکم



عبداللہؓ
بن مسعود سے روایت ہے، کہا: یہ قرآن اللہ کا دستر خوان ہے پس اس سے
جتناحظ اٹھا سکتے ہو، اٹھالو ۔یہ قرآن اللہ کی مضبوط رسی ہے ۔ ہر طرف
روشنی کردینے والا نور ہے ۔ یہ ہر مرض کی شفا ہے۔ ہر مسئلے کا علاج ہے۔
جوا س سے چمٹ رہے یہ اس کا سہارا اور نجات ہے۔ جو اس کے پیچھے ہولیا وہ
پار لگ کر رہے گا۔نہ وہ کبھی بھٹکے گا کہ اسے شرمسار ہونا پڑے اور نہ وہ
کسی ٹیڑھ پن کا شکار ہوگا کہ اسے سیدھا کرنا پڑے۔ اس قرآن کے عجائب کبھی
ختم نہ ہونگے بار بار پڑھا جانے کے باوجود بھی یہ کبھی پرانا نہیں ہوگا۔
اسکوخوب پڑھو۔ اللہ اس کا ایک ایک حرف پڑھنے پر تمہیں اجر دے گا۔ دیکھو
میں یہ بھی نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف
ہے او رمیم ایک حرف ۔





عن
عبداللہ بن عمر ان النبی قال:الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامہ
یقول الصیام ای رب منعتہ الطعام والشھوة فشفعنی فیہ ، و یقول القرآن منعتہ
النوم باللیل فشفعنی فیہ، قال: فیشفعان۔( رواہ احمد و الطبرانی و الحاکم و
قال صحیح علی شرط مسلم)



عبداللہؓ
بن عمرؓ سے روایت ہے، نبی ﷺنے فرمایا: روزہ اور قرآن دونوں قیامت کے روز
بندے کے سفارشی بن کرآئیں گے۔ روزہ کہے گا پروردگار! میں نے اسے کھانے
پینے اور شہوت سے روک رکھا تھا، اب تو اس کےلئے میری شفاعت قبول فرما!
قرآن کہے گا میں نے راتوں کواس کو نیند سے باز رکھا اب تو اس کےلئے میری
شفاعت قبول فرما ۔ آپ فرماتے ہیں :دونوں کی سفارش ہی قبول ہوگی





عن ابی ھریرة عن النبی قال :من لم ید ع قول الزور والعمل بہ والجھل فلیس ﷲ حاجة فی ان یدع طعامہ و شرابہ (رواہ البخاری)


ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی ﷺنے فرمایا: جو
آدمی گناہ کی بات اور گناہ کے کام سے باز نہیں آتا۔ جہالت اور بد تمیزی
بھی نہیں چھوڑتا تو اللہ کو یہ حاجت تو نہیں کہ ایسا آدمی بس صرف اپنا
کھانا پینا چھوڑ کر بیٹھ رہے





عن ابی ھریرة عن النبی انہ قال:من نسی وھو صائم فاکل اوشرب فلیتم صومہ فانما اطعمہ اﷲ وسقاہ (متفق علیہ)


ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: روزہ دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو (اسکا روزہ ٹوٹا نہیں) وہ اسی کو پورا کرے کیونکہ دراصل یہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے




عن عامر بن ربیعة رایت النبی مالا احصی یتوسک وھو صائم۔(رواہ احمد و ابو داود والترمذی و قال ابن حجر اسنادہ جید)


عامرؓ بن ربیعہ سے روایت ہے ،کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺکو بے شمارمرتبہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے





عن
عائشة ان النبی صلی فی المسجد ذات لیلة و صلی لصلاتہ ناس ثم صلی من
القابلة و کثر الناس ثم اجتمعوا من اللیلة الثالثة او الرابعة فلم یخرج
الیھم رسول اﷲ فلمااصبح قال قد رایت الذی صنعتم لم یمنعنی من الخروج الیکم
الا انی خشیت ان تفرض علیکم



حضرت عائشہؓ سے روایت ہے: نبی
ﷺنے (رمضان کی) ایک رات( تراویح) نماز پڑھی لوگ بھی آپ کے پیچھے نماز
پڑھنے لگے۔ اگلی رات پھر پڑھی تب لوگ اور بھی زیادہ ہوگئے۔ پھر تیسری یا
چوتھی رات بھی لوگ اکٹھے ہوئے مگر رسول اللہ باہر نہ آئے جب صبح ہوئی تو آپ
تشریف لائے اور فرمایا تمہارا انتظار کرنا مجھے معلوم تھا مجھے باہر آکر
تمہارے ساتھ شامل ہونے میں کوئی مانع نہیں تھا سوائے اس کے کہ مجھے ڈر ہوا
کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ ٹھہر جائے





عن
ابی ذر قال صمنا مع النبی فلم یعلم بنا حتی بقی سبع من الشھر فقام بنا
حتی ذھب ثلث اللیل ثم لم یقم بنا فی السادسة ثم قام بنا فی الخامسة حتی
ذھب شطر اللیل ای نصفہ فقلنا ۔ یار سول اﷲ لونفلتنا بقیة لیلتنا ھذہ ؟فقال
انہ من قام مع الامام حتی ینصرف کتب لہ قیام لیلة (رواہ اھل السنن بسند
صحیح)



ابوذرغفاریؓ سے روایت ہے کہتے ہیں: ہم
نبی ﷺکے ساتھ روزے رکھتے رہے آپ نے ہمیں رات کی (تراویح) نما ز نہیں
پڑھائی تا آنکہ رمضان کی سات راتیں گزر گئیں تب آپ نے ہمیں نماز پڑھائی
یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی۔ پھر آپ نے چوبیسویں رات نماز نہ پڑھائی پھر
پچیسویں رات نماز پڑھائی یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ تب ہم نے کہا اے
اللہ کے رسول اگر باقی کی رات بھی آپ ہمیں نوافل پڑھائیں! آپ نے فرمایا کہ
بس جوآدمی امام کی اقتدا میں (تراویح کا) قیام کرے اور امام کے ختم کرنے
تک (اس کے ساتھ پڑھتا رہے) اس کےلئے پوری رات ہی کاقیام لکھا جاتا ہے





عن ابن عمر قول رسول اﷲ لا تمنعو ااما ءاﷲ مساجد اﷲ (البخاری)

_________________
avatar
Noor'e Sahar

Female Cancer Number of posts : 2362
Age : 106
Reputation : 1
Registration date : 2009-08-08

Back to top Go down

Re: احادیثِ مبارکہ

Post by Isma on Wed Aug 18, 2010 5:06 am

JazakALLAH kHair .....khush raho
avatar
Isma

Female Aries Number of posts : 108
Age : 31
Reputation : 0
Registration date : 2010-07-04

Back to top Go down

Re: احادیثِ مبارکہ

Post by nirma1230 on Wed Jun 29, 2011 7:36 pm

jazza kum ullah to share such a great information with us,

appreciated
avatar
nirma1230

Female Cancer Number of posts : 8
Age : 27
Reputation : 0
Registration date : 2011-06-13

Back to top Go down

Re: احادیثِ مبارکہ

Post by Noor'e Sahar on Thu Jun 30, 2011 12:07 am

Jazak Allah khair for visiting !

_________________
avatar
Noor'e Sahar

Female Cancer Number of posts : 2362
Age : 106
Reputation : 1
Registration date : 2009-08-08

Back to top Go down

Re: احادیثِ مبارکہ

Post by Sponsored content


Sponsored content


Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top

- Similar topics

 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum